🔥🌟 MDCAT/ECAT/FSC/XII MCQs Interactive Quiz # 6 Alkyl Halides🧪💡 | Learn & Practice!

 

🔥🌟 MDCAT/ECAT/FSC/XII MCQs Interactive Quiz # 6 Alkyl Halides🧪💡 | Learn & Practice!

🎉 Welcome to Inamjazbi's Chemistry Corner!

Dive into this interactive MCQs test of Class 12 Chemistry for MDCAT / ECAT! 🚀

Test your knowledge, sharpen your skills, and learn with fun & engaging quizzes. Get ready to master the fundamentals and boost your score! 🌱💡

🔥🌟 MDCAT / ECAT / FSC / XII

Grand Chemistry MCQs Interactive Quiz # 6 Alkyl Halides 🧪💡

LearnPracticeExcel 🚀 Strengthen your concepts and boost your exam confidence!

Learn & Practice!

🔥🌟 MDCAT/ECAT/FSC/XII MCQs Interactive Quiz # # 6 Alkyl Halides 🧪💡 | Learn & Practice!

1️⃣ Which of the following composition justifies the secondary alkyl halide?
Correct:
👉 R₂CHX represents a secondary alkyl halide, where the halogen is bonded to a carbon connected to two other carbon atoms.
➡️ Primary (1°): Halogen is attached to a carbon bonded to one other carbon → General formula: RCH₂X
➡️ Secondary (2°): Halogen is attached to a carbon bonded to two other carbons → General formula: R₂CHX 👈
➡️ Tertiary (3°): Halogen is attached to a carbon bonded to three other carbons → General formula: R₃CX
➡️ Methyl halide: Halogen is attached to a carbon bonded to no other carbon → General formula: CH₃X
2️⃣ Which of the following alkyl halide cannot produce an alkene while treated with alcoholic potassium hydroxide?
Correct:
The preparation of alkene from alkyl halide by its dehydrohalogenation (elimination reactions) is carried out by alcoholic KOH that requires at least two carbon atoms; an α-carbon with the halogen and a β-carbon with a hydrogen.
👉 Methyl halide like methyl bromide has only one carbon lacking β-hydrogen cannot undergo elimination and hence cannot produce alkene upon dehydrohalogenation
3️⃣ Ethyl magnesium bromide with carbon dioxide yields
Correct:
Grignard’s reagent adds a molecule of carbon dioxide to produce next higher carboxylic acid. This is a classic Grignard reaction involving ethyl magnesium bromide (C₂H₅MgBr) and carbon dioxide (CO₂), followed by acidic hydrolysis giving acid with one carbon more than the parent Grignard’s reagent i.e. Propanoic acid. 👈
Grignard Reagent + CO₂ + H⁺ → Next higher Carboxylic Acid (one C more than parent GR)
CH₃CH₂MgBr + CO₂ + H⁺ → CH₃CH₂COOH (Propanoic acid) 👈
4️⃣ Grignard’s reagent with ester produces
Correct:
Grignard’s reagent (RMgX) reacts with an ester The reaction first forms a ketone (intermediate), which on further reaction usually gives a tertiary alcohol after hydrolysis. In MCQs, the direct product asked is ketone 👈.
🔎 Final Product of reaction of Grignard’s reagent with ester depends on Conditions:
➡️ If only one equivalent of Grignard reagent is used and the reaction is carefully controlled, the intermediate ketone can be isolated.
➡️ If excess Grignard reagent is used, the reaction proceeds to form a tertiary alcohol.
🔎 Step-by-Step Reaction:
➡️ First Equivalent of Grignard Reagent (Ketone is the product)
The Grignard reagent attacks the carbonyl carbon of the ester. This leads to the formation of a tetrahedral intermediate, which then eliminates the alkoxy group (–OR), forming a ketone.
➡️ Second Equivalent of Grignard Reagent (Tertiary alcohol is the product)
The newly formed ketone is also reactive toward Grignard reagents. A second molecule of RMgX attacks the ketone, forming a tertiary alcohol after acidic workup.
5️⃣ Amine act as a bases because
Correct:
Amines contain a lone pair of electrons on the nitrogen atom, which allows them to accept a proton (H⁺) from an acid, forming a positively charged ammonium ion (R-NH₃⁺).
This proton-accepting behavior is characteristic of Brønsted-Lowry bases (proton acceptor) making amines basic.
In water, an amine like methylamine (CH₃NH₂) accepts a proton from water, forming a positively charged ammonium ion and releasing hydroxide ions confirming its basic nature.
CH₃NH₂ + H₂O → CH₃NH₃⁺ + OH⁻

💥 جونؔ ایلیا 🎯 💥

💭 بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گے
💔 صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے
🎶 رقص ہے رنگ پر رنگ ہم رقص ہیں
🌌 سب بچھڑ جائیں گے سب بکھر جائیں گے
🍷 یہ خراباتیان خرد باختہ
🌅 صبح ہوتے ہی سب کام پر جائیں گے
💕 کتنی دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں
⚡ کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے
🌟 ہے غنیمت کہ اسرار ہستی سے ہم
🕊️ بے خبر آئے ہیں بے خبر جائیں گے

🔥 جونؔ ایلیا ۔ غزل 🔥

🌸 ہے بکھرنے کو یہ محفلِ رنگ و بُو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🕊️ ہر طرف ہو رہی ہے یہی گفتگو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
💭 کوئی حاصل نہ تھا آرزو کا مگر، سانحہ یہ ہے اب آرزو بھی نہیں
⏳ وقت کی اس مسافت میں بے آرزو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🔥 ایک جنوں تھا کہ آباد ہو شہرِ جاں، اور آباد جب شہرِ جاں ہو گیا
🌌 ہیں یہ سرگوشیاں دربدر کوبکو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🛤️ کس قدر دور سے لوٹ کر آئے ہیں، یوں کہوں عمر برباد کر آئے ہیں
💔 تھا سراب اپنا سرمایۂِ جستجو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🌿 دشت میں رقصِ شوقِ بہار اب کہاں، بعدِ پیمائ دیوانہ وار اب کہاں
🌙 بس گزرنے کو ہے موسمِ ہائے و ہُو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🎶 ہر متاعِ نفس نذرِ آہنگ کی، ہم کو یاراں ہَوس تھی بہت رنگ کی
🌹 گُل زمیں سے ابلنے کو ہے اب لہو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے؟
🌙 اولِ شب کا مہتاب بھی جا چکا، صحنِ مے خانہ سے اب افق میں کہیں
🍷 آخرِ شب ہے خالی ہیں جام و سُبو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے؟
🌸 دشت میں رقصِ شوقِ بہار اب کہاں، بادہ پیمائی دیوانہ دار اب کہاں
🔥 بس گزرنے کو ہے موسمِ ہاؤ و ہُو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے؟

💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥

🌸 کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے
💭 جانے کیسے لوگ وہ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے
🌙 شام ہوئے خوش باش یہاں کے میرے پاس آ جاتے ہیں
🔥 میرے بجھنے کا نظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے
🚶 وہ جو نہ آنے والا ہے نا اس سے مجھ کو مطلب تھا
💔 آنے والوں سے کیا مطلب آتے ہیں آتے ہوں گے
🍃 اس کی یاد کی باد صبا میں اور تو کیا ہوتا ہوگا
🌌 یوں ہی میرے بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے
🤝 یارو کچھ تو ذکر کرو تم اس کی قیامت بانہوں کا
💔 وہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں وہ تو مر جاتے ہوں گے
🕊️ میرا سانس اکھڑتے ہی سب بین کریں گے روئیں گے
🌙 یعنی میرے بعد بھی یعنی سانس لیے جاتے ہوں گے
✍️ جونؔ ایلیا

💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥

🌙 زندانیانِ شام و سحر خیریت سے ہیں
💭 ہر لمحہ جی رہے ہیں مگر خیریت سے ہیں
🏙️ شہرِ یقیں میں اب کوئی دم خم نہیں رہا
🌌 دشتِ گماں کے خاک بسر خیریت سے ہیں
🙏 آخر ہے کون جو کسی پل کہ سکے یہ بات
🕊️ اللہ اور تمام بشر خیریت سے ہیں
💡 ہے اپنے اپنے طور پہ ہر چیز اس گھڑی
💧 مژگانِ خشک و دامنِ تر خیریت سے ہیں
👀 اب فیصلوں کا کم نظروں پر مدار ہے
🌟 یعنی تمام اہلِ نظر خیریت سے ہیں
🦶 پیروں سے آبلوں کا وہی ہے معاملہ
🔥 سودائیانِ حال کے سر خیریت سے ہیں
🏚️ ہم جن گھروں کو چھوڑ کے آئے تھے ناگہاں
💭 شکوے کی بات ہے، وہ اگر خیریت سے ہیں
🌬️ لو چل رہی ہے، محو ہے اپنے میں دوپہر
🏚️ خاک اڑ رہی ہے اور کھنڈر خیریت سے ہیں
👥 ہم اہلِ شہر اپنے جوانوں کے درمیاں
✨ جونؔ! ایک معجزہ ہے اگر خیریت سے ہیں
🎨 برباد ہوچکا ہے ہنر اک ہنر کے ساتھ
📜 اور اپنے صاحبانِ ہنر خیریت سے ہیں
🕊️ شکرِ خدا شہید ہوئے اہلِ حق تمام
⚔️ برگستوان و تیغ و تبر خیریت سے ہیں
🏰 اب اس کا قصرِ ناز کہاں اور وہ کہاں
🚪 بس در ہے اور بندئہ در خیریت سے ہیں
✍️ ہم ہیں کہ شاعری ہے ہمارے لئے عذاب
📖 ورنہ تمام جوشؔ و جگرؔ خیریت سے ہیں
📚 شاعر تو دو ہیں میرؔ تقی اور میر جونؔ
🌙 باقی جو ہیں وہ شام و سحر خیریت سے ہیں
✍️ جونؔ ایلیا

💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥

🌅 ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے
☀️ دھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہے
🍃 رنگ موسم ہے اور بادِ صبا
🌆 شہر کوچوں میں خاک اڑاتی ہے
📄 فرش پر کاغذ اڑتے پھرتے ہیں
🕰️ میز پر گرد جمتی جاتی ہے
💭 سوچتا ہوں کہ اس کی یاد آخر
🌙 اب کسے رات بھر جگاتی ہے
🎶 میں بھی اذنِ نواگری چاہوں
💔 بے دلی بھی تو لب ہلاتی ہے
🌳 سوگئے پیڑ جاگ اٹھی خوشبو
🌸 زندگی خواب کیوں دکھاتی ہے
💔 اس سراپا وفا کی فرقت میں
💭 خواہشِ غیر کیوں ستاتی ہے
🤝 آپ اپنے سے ہم سخن رہنا
😮 ہمنشیں! سانس پھول جاتی ہے
😔 کیا ستم ہے کہ اب تِری صورت
👀 غور کرنے پہ یاد آتی ہے
🏚️ کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
💔 روز ایک چیز ٹوٹ جاتی ہے
✍️ جونؔ ایلیا

💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥

🌟 یہ ملکِ جاں یہ حقیقت نہ رائیگاں جائے
💭 یہ دل کے خواب کی صورت نہ رائیگاں جائے
🏙️ ہے شہر شہر کی محنت یہ منزلِ مقصود
🌌 یہ شہر شہر کی محنت نہ رائیگاں جائے
🤝 یہ رنگ رنگ کے رشتے بکھر نہ جائیں کہیں
💡 یہ خود سے اپنی رفاقت نہ رائیگاں جائے
🌸 سوائے حسنِ طبیعت دھرا بھی اب کیا ہے
🌙 کہیں یہ حسنِ طبیعت نہ رائیگاں جائے
🔊 ہے گوشہ گوشہ یہاں سازشوں کی سرگوشی
💔 ہمارا عہدِ محبت نہ رائیگاں جائے
👥 کہاں کہاں سے یہاں آکے ہم ہوئے ہیں بہم
✨ یہ اجتماع یہ صحبت نہ رائیگاں جائے
⏳ نہ بھولنا کہ یہ مہلت ہے آخری مہلت
🌟 رہے خیال یہ مہلت نہ رائیگاں جائے
💭 مجھے تو اے میرے دل تجھ سے ہے یہی کہنا
🔥 تیرے جنون کی حالت نہ رائیگاں جائے
✍️ جونؔ ایلیا

💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥

🌙 نشئہ ماہ و سال ہے، تاحال
💭 شوق اس کا کمال ہے، تاحال
🌸 نکہتِ گل ادھر نہ آئیو تو
😔 جی ہمارا نڈھال ہے، تاحال
💔 میرا سینہ چھلا ہوا ہے مگر
⚡ شوقِ بحث و جدال ہے، تاحال
🌀 اس عبث خانئہ حوادث میں
❓ ہر جواب اک سوال ہے، تاحال
⏳ بڑھ رہا ہوں زوال کی جانب
💔 دل میں زخمِ کمال ہے، تاحال
🏚️ کب کا تاراج ہوچکا ہوں مگر
🌟 ذہن میں اک مثال ہے، تاحال
💔 زخمِ کاری کے باوجود
🌿 ہوسِ اندمال ہے، تاحال
🧣 دامنِ آلودگی کے بعد بھی تو
🌸 آپ اپنی مثال ہے، تاحال
💭 ہے یہ صورت کہ اشتیاق اس کا
💔 بے امیدِ وصال ہے، تاحال
😔 تھا جو شکوہ سو ہے وہ تاایں دم
🌙 وہ جو تھا اک ملال ہے، تاحال
💔 زندگی ہے لہولہان مگر
🎨 رنگ بے خدوخال ہے، تاحال
📖 ہے سوادِ ختن غزل میری
🦌 تو غزل کا غزال ہے، تاحال
🌹 لالہ رویا، شکن شکن مویا
💭 تجھ کو پانا محال ہے، تاحال
🩺 کتنے چارہ گروں نے زحمت کی
😔 پر وہی میرا حال ہے، تاحال
✍️ جونؔ ایلیا

💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥

💭 نہیں جذبے کسی بھی قیمت کے
🌙 ہم ہیں حیران اپنی حیرت کے
🤔 اس میں آخر عجب کی بات ہے کیا
💔 تم نہیں تھے مری طبیعت کے
😔 پوچھ مت بے شکایتی کا عذاب
🌟 کیا عجب عیش تھے شکایت کے
💧 یہ جو آنسو ہیں، رخصتی آنسو
🎁 یہ عطیے ہیں دل کی عادت کے
📜 ہم ہی شیعوں کے مجتہد ہیں مغاں!
⚖️ ہم ہی مفتی ہیں اہلسنت کے
💉 ہم تو بس خون تھوکتے ہیں میاں
🛠️ نہیں خوگر کسی مشقت کے
💕 یہ جو لمحے ہیں وصال کے ہیں میاں
🌙 ہیں یہ لمحے تمام ہجرت کے
✨ جونؔ، یزدان و آدم و ابلیس
📖 ہیں عجب معجزے حکایت کے
✍️ جونؔ ایلیا

💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥

❤️ دل نے وفا کے نام پر کارِ وفا نہیں کیا
💔 خود کو ہلاک کر لیا، خود کو فدا نہیں کیا
🤔 کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے ہے واسطہ کوئی
😔 تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا
⚖️ تو بھی کسی کے باب میں عہد شکن ہو غالباً
📜 میں نے بھی ایک شخص کا قرض ادا نہیں کیا
🗣️ جو بھی ہو تم پہ معترض، اُس کو یہی جواب دو
🌟 آپ بہت شریف ہیں، آپ نے کیا نہیں کیا
👑 جس کو بھی شیخ و شاہ نے حکمِ خُدا دیا قرار
🙏 ہم نے نہیں کیا وہ کام، ہاں باخُدا نہیں کیا
📖 نسبتِ علم ہے بہت حاکمِ وقت کو عزیز
💡 اُس نے تو کارِ جہل بھی بے علما نہیں کیا
✍️ جونؔ ایلیا

💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥

📖 حال خوش تذکرہ نگاروں کا
🌙 تھا تو اک شہر خاکساروں کا
💔 پہلے رہتے تھے کوچۂ دل میں
😔 اب پتہ کیا ہے دل فگاروں کا
🚪 کوئے جاناں کی ناکہ بندی ہے
🛏️ بسترا اب کہاں ہے یاروں کا
🌬️ چلتا جاتا ہے سانس کا لشکر
🕊️ کون پُرساں ہے یادگاروں کا
💭 اپنے اندر گھسٹ رہا ہوں میں
🌌 مجھ سے کیا ذکر رہ گزاروں کا
🎉 ان سے جو شہر میں ہیں بے دعویٰ
🌟 عیش مت پوچھ دعویداروں کا
⚔️ کیسا یہ معرکہ ہے برپا جو
🐎 نہ پیادوں کا نہ سواروں کا
🖋️ بات تشبیہہ کی نہ کیجیو تُو
📚 دہر ہے صرف استعاروں کا
💔 میں تو خیر اپنی جان ہی سے گیا
🤝 کیا ہوا جانے جانثاروں کا
🔥 کچھ نہیں اب سوائے خاکستر
🌪️ ایک جلسہ تھا شعلہ خواروں کا
✍️ جونؔ ایلیا

💥 حضرتِ جونؔ ایلیا 💥 🎨 خاتم الشعرا و شاعرِ بے مثل و بے بدل 🎨

👥 اپنے سب یار کام کررہے ہیں
🌙 اور ہم ہیں کہ نام کر رہے ہیں
🏛️ آنے والی اپر کلاس کی ہے
✨ ہم جو یہ اہمتمام کررہے ہیں
⚔️ تیغ بازی کا شوق اپنی جگہ
🔥 آپ تو قتلِ عام کررہے ہیں
🎶 داد و تحسین کا یہ شور ہے کیوں
💭 ہم تو خود سے کلام کررہے ہیں
😔 ہے وہ بے چارگی کا حال کہ ہم
🤝 ہر کسی کو سلام کررہے ہیں
🕊️ ہم تو بس یاد کے ہیں لوگ میاں
💔 اپنا ہونا حرام کررہے ہیں
👑 اک قتالہ چاہئے ہم کو
📢 ہم یہ اعلانِ عام کررہے ہیں
🍷 کیا بھلا ساغرِ سفال کہ ہم
🥂 ناف پیالے کو جام کررہے ہیں
📝 ہم تو آئے تھے عرضِ مطلب کو
🙏 اور وہ احترام کررہے ہیں
💨 نہ اٹھے آہ کا دھواں بھی کہ وہ
🌌 کوئے دل میں خرام کررہے ہیں
💋 اس کے ہونٹوں پہ رکھ کے ہونٹ اپنے
🕊️ بات ہی ہم تمام کررہے ہیں
🎉 ہم عجب ہیں کہ اس کے کوچے میں
🥁 بے سبب دھوم دھام کررہے ہیں
⚔️ کرکے بے پوشش اس صنم کو ہم
🗡️ تیغ کو بے نیام کررہے ہیں
🎭 کوئی بھی فن ہمیں نہیں آتا
⏳ دم کو بس دوام کررہے ہیں
🌟 ہم جو ہر لمحہ جی رہے ہیں جونؔ
🏛️ ہم ابد میں قیام کررہے ہیں
✍️ حضرتِ جونؔ ایلیا

💥 حضرتِ جونؔ ایلیا 💥 🎨 خاتم الشعرا و شاعرِ بے مثل و بے بدل 🎨

🤝 نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
💔 بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم
🌙 خموشی سے ادا ہو رسمِ دوری
🔥 کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم
📖 سنا دیں عصمتِ مریم کا قصّہ؟
❌ پر اب اس باب کو وا کیوں کریں ہم
💭 زلیخاے عزیزاں بات یہ ہے
⚖️ بھلا گھاٹے کا سودا کیوں کریں ہم
💕 ہماری ہی تمنّا کیوں کرو تم
🌟 تمہاری ہی تمنّا کیوں کریں ہم
🕰️ کیا تھا عہد جب لمحوں میں ہم نے
📜 تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم
🗑️ اٹھا کر کیوں نہ پھینکیں ساری چیزیں
🚶 فقط کمروں میں ٹہلا کیوں کریں ہم
👥 جو اک نسل فرومایہ کو پہنچے
💡 وہ سرمایہ اکٹھا کیوں کریں ہم
🌍 نہیں دنیا کو جب پروا ہماری
😔 تو پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم
🏙️ برہنہ ہیں سرِ بازار تو کیا
👀 بھلا اندھوں سے پردہ کیوں کریں ہم
🏠 ہیں باشندے اسی بستی کے ہم بھی
🤝 سو خود پر بھی بھروسا کیوں کریں ہم
💀 چبالیں کیوں نہ خود ہی اپنا ڈھانچا
🍽️ تمہیں راتب مہیا کیوں کریں ہم
⚰️ پڑی رہنے دو انسانوں کی لاشیں
🌪️ زمیں کا بوجھ ہلکا کیوں کریں ہم
🕌 یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی
🕊️ یہاں کارِ مسیحا کیوں کریں ہم
✍️ حضرتِ جونؔ ایلیا

Post a Comment

Previous Post Next Post