Model Test Questions XI Chemistry on Chemical Kinetics (Chapter 9: Class 11)

 

XI Chemistry Model Test Questions

Welcome to Learn Chemistry by Dr. Inam Jazbi! 🎓 I’m Dr. Inam Jazbi, and this blog is your go-to place for Class XI Chemistry model test questions, solved examples, and exam tips. Here, you’ll find Chemical Kinetics (Chapter 9) practice questions, step-by-step solutions, and easy-to-understand explanations to help you master the concepts and excel in your exams. Dive in, practice, and boost your confidence in Chemistry!

🧠 Related Posts:

https://learnchemistrybyinamjazbi.blogspot.com/2025/11/class-12-chemistry-notes-with-mechanism.html

https://learnchemistrybyinamjazbi.blogspot.com/2025/10/numericals-on-gaseous-state.html

https://learnchemistrybyinamjazbi.blogspot.com/2025/07/derivation-of-radius-energy-change-in.html

https://learnchemistrybyinamjazbi.blogspot.com/2025/05/xi-chemistry-new-book-concise-notes-2025.html

https://learnchemistrybyinamjazbi.blogspot.com/2025/03/xi-chemistry-numerical-book-according.html

https://learnchemistrybyinamjazbi.blogspot.com/2025/01/model-test-questions-xi-chemistry-on.html

https://learnchemistrybyinamjazbi.blogspot.com/2024/08/model-test-questions-xi-chemistry-on.html

https://learnchemistrybyinamjazbi.blogspot.com/2024/07/uncertainty-in-measurement.html

https://learnchemistrybyinamjazbi.blogspot.com/2024/05/solution-of-important-numericals-of-xi.html

https://learnchemistrybyinamjazbi.blogspot.com/2024/02/xi-mcqs-on-oxidation-numbers-and.html


























































































💥 جونؔ ایلیا 🎯 💥

💭 بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گے
💔 صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے
🎶 رقص ہے رنگ پر رنگ ہم رقص ہیں
🌌 سب بچھڑ جائیں گے سب بکھر جائیں گے
🍷 یہ خراباتیان خرد باختہ
🌅 صبح ہوتے ہی سب کام پر جائیں گے
💕 کتنی دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں
⚡ کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے
🌟 ہے غنیمت کہ اسرار ہستی سے ہم
🕊️ بے خبر آئے ہیں بے خبر جائیں گے

🔥 جونؔ ایلیا ۔ غزل 🔥

🌸 ہے بکھرنے کو یہ محفلِ رنگ و بُو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🕊️ ہر طرف ہو رہی ہے یہی گفتگو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
💭 کوئی حاصل نہ تھا آرزو کا مگر، سانحہ یہ ہے اب آرزو بھی نہیں
⏳ وقت کی اس مسافت میں بے آرزو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🔥 ایک جنوں تھا کہ آباد ہو شہرِ جاں، اور آباد جب شہرِ جاں ہو گیا
🌌 ہیں یہ سرگوشیاں دربدر کوبکو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🛤️ کس قدر دور سے لوٹ کر آئے ہیں، یوں کہوں عمر برباد کر آئے ہیں
💔 تھا سراب اپنا سرمایۂِ جستجو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🌿 دشت میں رقصِ شوقِ بہار اب کہاں، بعدِ پیمائ دیوانہ وار اب کہاں
🌙 بس گزرنے کو ہے موسمِ ہائے و ہُو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🎶 ہر متاعِ نفس نذرِ آہنگ کی، ہم کو یاراں ہَوس تھی بہت رنگ کی
🌹 گُل زمیں سے ابلنے کو ہے اب لہو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے؟
🌙 اولِ شب کا مہتاب بھی جا چکا، صحنِ مے خانہ سے اب افق میں کہیں
🍷 آخرِ شب ہے خالی ہیں جام و سُبو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے؟
🌸 دشت میں رقصِ شوقِ بہار اب کہاں، بادہ پیمائی دیوانہ دار اب کہاں
🔥 بس گزرنے کو ہے موسمِ ہاؤ و ہُو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے؟

💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥

🌸 کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے
💭 جانے کیسے لوگ وہ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے
🌙 شام ہوئے خوش باش یہاں کے میرے پاس آ جاتے ہیں
🔥 میرے بجھنے کا نظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے
🚶 وہ جو نہ آنے والا ہے نا اس سے مجھ کو مطلب تھا
💔 آنے والوں سے کیا مطلب آتے ہیں آتے ہوں گے
🍃 اس کی یاد کی باد صبا میں اور تو کیا ہوتا ہوگا
🌌 یوں ہی میرے بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے
🤝 یارو کچھ تو ذکر کرو تم اس کی قیامت بانہوں کا
💔 وہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں وہ تو مر جاتے ہوں گے
🕊️ میرا سانس اکھڑتے ہی سب بین کریں گے روئیں گے
🌙 یعنی میرے بعد بھی یعنی سانس لیے جاتے ہوں گے
✍️ جونؔ ایلیا

💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥

🌙 زندانیانِ شام و سحر خیریت سے ہیں
💭 ہر لمحہ جی رہے ہیں مگر خیریت سے ہیں
🏙️ شہرِ یقیں میں اب کوئی دم خم نہیں رہا
🌌 دشتِ گماں کے خاک بسر خیریت سے ہیں
🙏 آخر ہے کون جو کسی پل کہ سکے یہ بات
🕊️ اللہ اور تمام بشر خیریت سے ہیں
💡 ہے اپنے اپنے طور پہ ہر چیز اس گھڑی
💧 مژگانِ خشک و دامنِ تر خیریت سے ہیں
👀 اب فیصلوں کا کم نظروں پر مدار ہے
🌟 یعنی تمام اہلِ نظر خیریت سے ہیں
🦶 پیروں سے آبلوں کا وہی ہے معاملہ
🔥 سودائیانِ حال کے سر خیریت سے ہیں
🏚️ ہم جن گھروں کو چھوڑ کے آئے تھے ناگہاں
💭 شکوے کی بات ہے، وہ اگر خیریت سے ہیں
🌬️ لو چل رہی ہے، محو ہے اپنے میں دوپہر
🏚️ خاک اڑ رہی ہے اور کھنڈر خیریت سے ہیں
👥 ہم اہلِ شہر اپنے جوانوں کے درمیاں
✨ جونؔ! ایک معجزہ ہے اگر خیریت سے ہیں
🎨 برباد ہوچکا ہے ہنر اک ہنر کے ساتھ
📜 اور اپنے صاحبانِ ہنر خیریت سے ہیں
🕊️ شکرِ خدا شہید ہوئے اہلِ حق تمام
⚔️ برگستوان و تیغ و تبر خیریت سے ہیں
🏰 اب اس کا قصرِ ناز کہاں اور وہ کہاں
🚪 بس در ہے اور بندئہ در خیریت سے ہیں
✍️ ہم ہیں کہ شاعری ہے ہمارے لئے عذاب
📖 ورنہ تمام جوشؔ و جگرؔ خیریت سے ہیں
📚 شاعر تو دو ہیں میرؔ تقی اور میر جونؔ
🌙 باقی جو ہیں وہ شام و سحر خیریت سے ہیں
✍️ جونؔ ایلیا

💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥

🌅 ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے
☀️ دھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہے
🍃 رنگ موسم ہے اور بادِ صبا
🌆 شہر کوچوں میں خاک اڑاتی ہے
📄 فرش پر کاغذ اڑتے پھرتے ہیں
🕰️ میز پر گرد جمتی جاتی ہے
💭 سوچتا ہوں کہ اس کی یاد آخر
🌙 اب کسے رات بھر جگاتی ہے
🎶 میں بھی اذنِ نواگری چاہوں
💔 بے دلی بھی تو لب ہلاتی ہے
🌳 سوگئے پیڑ جاگ اٹھی خوشبو
🌸 زندگی خواب کیوں دکھاتی ہے
💔 اس سراپا وفا کی فرقت میں
💭 خواہشِ غیر کیوں ستاتی ہے
🤝 آپ اپنے سے ہم سخن رہنا
😮 ہمنشیں! سانس پھول جاتی ہے
😔 کیا ستم ہے کہ اب تِری صورت
👀 غور کرنے پہ یاد آتی ہے
🏚️ کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
💔 روز ایک چیز ٹوٹ جاتی ہے
✍️ جونؔ ایلیا

💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥

🌟 یہ ملکِ جاں یہ حقیقت نہ رائیگاں جائے
💭 یہ دل کے خواب کی صورت نہ رائیگاں جائے
🏙️ ہے شہر شہر کی محنت یہ منزلِ مقصود
🌌 یہ شہر شہر کی محنت نہ رائیگاں جائے
🤝 یہ رنگ رنگ کے رشتے بکھر نہ جائیں کہیں
💡 یہ خود سے اپنی رفاقت نہ رائیگاں جائے
🌸 سوائے حسنِ طبیعت دھرا بھی اب کیا ہے
🌙 کہیں یہ حسنِ طبیعت نہ رائیگاں جائے
🔊 ہے گوشہ گوشہ یہاں سازشوں کی سرگوشی
💔 ہمارا عہدِ محبت نہ رائیگاں جائے
👥 کہاں کہاں سے یہاں آکے ہم ہوئے ہیں بہم
✨ یہ اجتماع یہ صحبت نہ رائیگاں جائے
⏳ نہ بھولنا کہ یہ مہلت ہے آخری مہلت
🌟 رہے خیال یہ مہلت نہ رائیگاں جائے
💭 مجھے تو اے میرے دل تجھ سے ہے یہی کہنا
🔥 تیرے جنون کی حالت نہ رائیگاں جائے
✍️ جونؔ ایلیا

💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥

🌙 نشئہ ماہ و سال ہے، تاحال
💭 شوق اس کا کمال ہے، تاحال
🌸 نکہتِ گل ادھر نہ آئیو تو
😔 جی ہمارا نڈھال ہے، تاحال
💔 میرا سینہ چھلا ہوا ہے مگر
⚡ شوقِ بحث و جدال ہے، تاحال
🌀 اس عبث خانئہ حوادث میں
❓ ہر جواب اک سوال ہے، تاحال
⏳ بڑھ رہا ہوں زوال کی جانب
💔 دل میں زخمِ کمال ہے، تاحال
🏚️ کب کا تاراج ہوچکا ہوں مگر
🌟 ذہن میں اک مثال ہے، تاحال
💔 زخمِ کاری کے باوجود
🌿 ہوسِ اندمال ہے، تاحال
🧣 دامنِ آلودگی کے بعد بھی تو
🌸 آپ اپنی مثال ہے، تاحال
💭 ہے یہ صورت کہ اشتیاق اس کا
💔 بے امیدِ وصال ہے، تاحال
😔 تھا جو شکوہ سو ہے وہ تاایں دم
🌙 وہ جو تھا اک ملال ہے، تاحال
💔 زندگی ہے لہولہان مگر
🎨 رنگ بے خدوخال ہے، تاحال
📖 ہے سوادِ ختن غزل میری
🦌 تو غزل کا غزال ہے، تاحال
🌹 لالہ رویا، شکن شکن مویا
💭 تجھ کو پانا محال ہے، تاحال
🩺 کتنے چارہ گروں نے زحمت کی
😔 پر وہی میرا حال ہے، تاحال
✍️ جونؔ ایلیا

💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥

💭 نہیں جذبے کسی بھی قیمت کے
🌙 ہم ہیں حیران اپنی حیرت کے
🤔 اس میں آخر عجب کی بات ہے کیا
💔 تم نہیں تھے مری طبیعت کے
😔 پوچھ مت بے شکایتی کا عذاب
🌟 کیا عجب عیش تھے شکایت کے
💧 یہ جو آنسو ہیں، رخصتی آنسو
🎁 یہ عطیے ہیں دل کی عادت کے
📜 ہم ہی شیعوں کے مجتہد ہیں مغاں!
⚖️ ہم ہی مفتی ہیں اہلسنت کے
💉 ہم تو بس خون تھوکتے ہیں میاں
🛠️ نہیں خوگر کسی مشقت کے
💕 یہ جو لمحے ہیں وصال کے ہیں میاں
🌙 ہیں یہ لمحے تمام ہجرت کے
✨ جونؔ، یزدان و آدم و ابلیس
📖 ہیں عجب معجزے حکایت کے
✍️ جونؔ ایلیا

Post a Comment

Previous Post Next Post