Welcome to Inam Jazbi’s ultimate guide to XI Chemistry – Thermochemistry (Chapter # 11)! 🔥 Whether you're preparing for board exams or competitive tests like MDCAT/ ECAT, this blog is packed with model test questions, solved numericals, and MCQs that will help you ace Thermochemistry!
In this blog, you’ll find:
🔥Chapter 11 Test Questions to practice the core concepts of thermochemistry.
🔥Detailed solutions for numericals and problems.
🔥MCQs to test your understanding and boost your exam confidence.
With Inam Jazbi’s expert tips and solutions, you’re all set to master Thermochemistry and score big in your XI Chemistry exams! 🚀 Let’s dive into the heat of learning and make Thermochemistry your strength! 💥
💥 جونؔ ایلیا 🎯 💥
💭 بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گے
💔 صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے
💔 صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے
🎶 رقص ہے رنگ پر رنگ ہم رقص ہیں
🌌 سب بچھڑ جائیں گے سب بکھر جائیں گے
🌌 سب بچھڑ جائیں گے سب بکھر جائیں گے
🍷 یہ خراباتیان خرد باختہ
🌅 صبح ہوتے ہی سب کام پر جائیں گے
🌅 صبح ہوتے ہی سب کام پر جائیں گے
💕 کتنی دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں
⚡ کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے
⚡ کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے
🌟 ہے غنیمت کہ اسرار ہستی سے ہم
🕊️ بے خبر آئے ہیں بے خبر جائیں گے
🕊️ بے خبر آئے ہیں بے خبر جائیں گے
🔥 جونؔ ایلیا ۔ غزل 🔥
🌸 ہے بکھرنے کو یہ محفلِ رنگ و بُو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🕊️ ہر طرف ہو رہی ہے یہی گفتگو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🕊️ ہر طرف ہو رہی ہے یہی گفتگو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
💭 کوئی حاصل نہ تھا آرزو کا مگر، سانحہ یہ ہے اب آرزو بھی نہیں
⏳ وقت کی اس مسافت میں بے آرزو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
⏳ وقت کی اس مسافت میں بے آرزو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🔥 ایک جنوں تھا کہ آباد ہو شہرِ جاں، اور آباد جب شہرِ جاں ہو گیا
🌌 ہیں یہ سرگوشیاں دربدر کوبکو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🌌 ہیں یہ سرگوشیاں دربدر کوبکو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🛤️ کس قدر دور سے لوٹ کر آئے ہیں، یوں کہوں عمر برباد کر آئے ہیں
💔 تھا سراب اپنا سرمایۂِ جستجو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
💔 تھا سراب اپنا سرمایۂِ جستجو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🌿 دشت میں رقصِ شوقِ بہار اب کہاں، بعدِ پیمائ دیوانہ وار اب کہاں
🌙 بس گزرنے کو ہے موسمِ ہائے و ہُو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🌙 بس گزرنے کو ہے موسمِ ہائے و ہُو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🎶 ہر متاعِ نفس نذرِ آہنگ کی، ہم کو یاراں ہَوس تھی بہت رنگ کی
🌹 گُل زمیں سے ابلنے کو ہے اب لہو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے؟
🌹 گُل زمیں سے ابلنے کو ہے اب لہو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے؟
🌙 اولِ شب کا مہتاب بھی جا چکا، صحنِ مے خانہ سے اب افق میں کہیں
🍷 آخرِ شب ہے خالی ہیں جام و سُبو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے؟
🍷 آخرِ شب ہے خالی ہیں جام و سُبو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے؟
🌸 دشت میں رقصِ شوقِ بہار اب کہاں، بادہ پیمائی دیوانہ دار اب کہاں
🔥 بس گزرنے کو ہے موسمِ ہاؤ و ہُو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے؟
🔥 بس گزرنے کو ہے موسمِ ہاؤ و ہُو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے؟
💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥
🌸 کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے
💭 جانے کیسے لوگ وہ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے
💭 جانے کیسے لوگ وہ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے
🌙 شام ہوئے خوش باش یہاں کے میرے پاس آ جاتے ہیں
🔥 میرے بجھنے کا نظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے
🔥 میرے بجھنے کا نظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے
🚶 وہ جو نہ آنے والا ہے نا اس سے مجھ کو مطلب تھا
💔 آنے والوں سے کیا مطلب آتے ہیں آتے ہوں گے
💔 آنے والوں سے کیا مطلب آتے ہیں آتے ہوں گے
🍃 اس کی یاد کی باد صبا میں اور تو کیا ہوتا ہوگا
🌌 یوں ہی میرے بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے
🌌 یوں ہی میرے بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے
🤝 یارو کچھ تو ذکر کرو تم اس کی قیامت بانہوں کا
💔 وہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں وہ تو مر جاتے ہوں گے
💔 وہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں وہ تو مر جاتے ہوں گے
🕊️ میرا سانس اکھڑتے ہی سب بین کریں گے روئیں گے
🌙 یعنی میرے بعد بھی یعنی سانس لیے جاتے ہوں گے
🌙 یعنی میرے بعد بھی یعنی سانس لیے جاتے ہوں گے
✍️ جونؔ ایلیا
💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥
🌙 زندانیانِ شام و سحر خیریت سے ہیں
💭 ہر لمحہ جی رہے ہیں مگر خیریت سے ہیں
💭 ہر لمحہ جی رہے ہیں مگر خیریت سے ہیں
🏙️ شہرِ یقیں میں اب کوئی دم خم نہیں رہا
🌌 دشتِ گماں کے خاک بسر خیریت سے ہیں
🌌 دشتِ گماں کے خاک بسر خیریت سے ہیں
🙏 آخر ہے کون جو کسی پل کہ سکے یہ بات
🕊️ اللہ اور تمام بشر خیریت سے ہیں
🕊️ اللہ اور تمام بشر خیریت سے ہیں
💡 ہے اپنے اپنے طور پہ ہر چیز اس گھڑی
💧 مژگانِ خشک و دامنِ تر خیریت سے ہیں
💧 مژگانِ خشک و دامنِ تر خیریت سے ہیں
👀 اب فیصلوں کا کم نظروں پر مدار ہے
🌟 یعنی تمام اہلِ نظر خیریت سے ہیں
🌟 یعنی تمام اہلِ نظر خیریت سے ہیں
🦶 پیروں سے آبلوں کا وہی ہے معاملہ
🔥 سودائیانِ حال کے سر خیریت سے ہیں
🔥 سودائیانِ حال کے سر خیریت سے ہیں
🏚️ ہم جن گھروں کو چھوڑ کے آئے تھے ناگہاں
💭 شکوے کی بات ہے، وہ اگر خیریت سے ہیں
💭 شکوے کی بات ہے، وہ اگر خیریت سے ہیں
🌬️ لو چل رہی ہے، محو ہے اپنے میں دوپہر
🏚️ خاک اڑ رہی ہے اور کھنڈر خیریت سے ہیں
🏚️ خاک اڑ رہی ہے اور کھنڈر خیریت سے ہیں
👥 ہم اہلِ شہر اپنے جوانوں کے درمیاں
✨ جونؔ! ایک معجزہ ہے اگر خیریت سے ہیں
✨ جونؔ! ایک معجزہ ہے اگر خیریت سے ہیں
🎨 برباد ہوچکا ہے ہنر اک ہنر کے ساتھ
📜 اور اپنے صاحبانِ ہنر خیریت سے ہیں
📜 اور اپنے صاحبانِ ہنر خیریت سے ہیں
🕊️ شکرِ خدا شہید ہوئے اہلِ حق تمام
⚔️ برگستوان و تیغ و تبر خیریت سے ہیں
⚔️ برگستوان و تیغ و تبر خیریت سے ہیں
🏰 اب اس کا قصرِ ناز کہاں اور وہ کہاں
🚪 بس در ہے اور بندئہ در خیریت سے ہیں
🚪 بس در ہے اور بندئہ در خیریت سے ہیں
✍️ ہم ہیں کہ شاعری ہے ہمارے لئے عذاب
📖 ورنہ تمام جوشؔ و جگرؔ خیریت سے ہیں
📖 ورنہ تمام جوشؔ و جگرؔ خیریت سے ہیں
📚 شاعر تو دو ہیں میرؔ تقی اور میر جونؔ
🌙 باقی جو ہیں وہ شام و سحر خیریت سے ہیں
🌙 باقی جو ہیں وہ شام و سحر خیریت سے ہیں
✍️ جونؔ ایلیا
💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥
🌅 ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے
☀️ دھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہے
☀️ دھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہے
🍃 رنگ موسم ہے اور بادِ صبا
🌆 شہر کوچوں میں خاک اڑاتی ہے
🌆 شہر کوچوں میں خاک اڑاتی ہے
📄 فرش پر کاغذ اڑتے پھرتے ہیں
🕰️ میز پر گرد جمتی جاتی ہے
🕰️ میز پر گرد جمتی جاتی ہے
💭 سوچتا ہوں کہ اس کی یاد آخر
🌙 اب کسے رات بھر جگاتی ہے
🌙 اب کسے رات بھر جگاتی ہے
🎶 میں بھی اذنِ نواگری چاہوں
💔 بے دلی بھی تو لب ہلاتی ہے
💔 بے دلی بھی تو لب ہلاتی ہے
🌳 سوگئے پیڑ جاگ اٹھی خوشبو
🌸 زندگی خواب کیوں دکھاتی ہے
🌸 زندگی خواب کیوں دکھاتی ہے
💔 اس سراپا وفا کی فرقت میں
💭 خواہشِ غیر کیوں ستاتی ہے
💭 خواہشِ غیر کیوں ستاتی ہے
🤝 آپ اپنے سے ہم سخن رہنا
😮 ہمنشیں! سانس پھول جاتی ہے
😮 ہمنشیں! سانس پھول جاتی ہے
😔 کیا ستم ہے کہ اب تِری صورت
👀 غور کرنے پہ یاد آتی ہے
👀 غور کرنے پہ یاد آتی ہے
🏚️ کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
💔 روز ایک چیز ٹوٹ جاتی ہے
💔 روز ایک چیز ٹوٹ جاتی ہے
✍️ جونؔ ایلیا
💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥
🌟 یہ ملکِ جاں یہ حقیقت نہ رائیگاں جائے
💭 یہ دل کے خواب کی صورت نہ رائیگاں جائے
💭 یہ دل کے خواب کی صورت نہ رائیگاں جائے
🏙️ ہے شہر شہر کی محنت یہ منزلِ مقصود
🌌 یہ شہر شہر کی محنت نہ رائیگاں جائے
🌌 یہ شہر شہر کی محنت نہ رائیگاں جائے
🤝 یہ رنگ رنگ کے رشتے بکھر نہ جائیں کہیں
💡 یہ خود سے اپنی رفاقت نہ رائیگاں جائے
💡 یہ خود سے اپنی رفاقت نہ رائیگاں جائے
🌸 سوائے حسنِ طبیعت دھرا بھی اب کیا ہے
🌙 کہیں یہ حسنِ طبیعت نہ رائیگاں جائے
🌙 کہیں یہ حسنِ طبیعت نہ رائیگاں جائے
🔊 ہے گوشہ گوشہ یہاں سازشوں کی سرگوشی
💔 ہمارا عہدِ محبت نہ رائیگاں جائے
💔 ہمارا عہدِ محبت نہ رائیگاں جائے
👥 کہاں کہاں سے یہاں آکے ہم ہوئے ہیں بہم
✨ یہ اجتماع یہ صحبت نہ رائیگاں جائے
✨ یہ اجتماع یہ صحبت نہ رائیگاں جائے
⏳ نہ بھولنا کہ یہ مہلت ہے آخری مہلت
🌟 رہے خیال یہ مہلت نہ رائیگاں جائے
🌟 رہے خیال یہ مہلت نہ رائیگاں جائے
💭 مجھے تو اے میرے دل تجھ سے ہے یہی کہنا
🔥 تیرے جنون کی حالت نہ رائیگاں جائے
🔥 تیرے جنون کی حالت نہ رائیگاں جائے
✍️ جونؔ ایلیا
💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥
🌙 نشئہ ماہ و سال ہے، تاحال
💭 شوق اس کا کمال ہے، تاحال
💭 شوق اس کا کمال ہے، تاحال
🌸 نکہتِ گل ادھر نہ آئیو تو
😔 جی ہمارا نڈھال ہے، تاحال
😔 جی ہمارا نڈھال ہے، تاحال
💔 میرا سینہ چھلا ہوا ہے مگر
⚡ شوقِ بحث و جدال ہے، تاحال
⚡ شوقِ بحث و جدال ہے، تاحال
🌀 اس عبث خانئہ حوادث میں
❓ ہر جواب اک سوال ہے، تاحال
❓ ہر جواب اک سوال ہے، تاحال
⏳ بڑھ رہا ہوں زوال کی جانب
💔 دل میں زخمِ کمال ہے، تاحال
💔 دل میں زخمِ کمال ہے، تاحال
🏚️ کب کا تاراج ہوچکا ہوں مگر
🌟 ذہن میں اک مثال ہے، تاحال
🌟 ذہن میں اک مثال ہے، تاحال
💔 زخمِ کاری کے باوجود
🌿 ہوسِ اندمال ہے، تاحال
🌿 ہوسِ اندمال ہے، تاحال
🧣 دامنِ آلودگی کے بعد بھی تو
🌸 آپ اپنی مثال ہے، تاحال
🌸 آپ اپنی مثال ہے، تاحال
💭 ہے یہ صورت کہ اشتیاق اس کا
💔 بے امیدِ وصال ہے، تاحال
💔 بے امیدِ وصال ہے، تاحال
😔 تھا جو شکوہ سو ہے وہ تاایں دم
🌙 وہ جو تھا اک ملال ہے، تاحال
🌙 وہ جو تھا اک ملال ہے، تاحال
💔 زندگی ہے لہولہان مگر
🎨 رنگ بے خدوخال ہے، تاحال
🎨 رنگ بے خدوخال ہے، تاحال
📖 ہے سوادِ ختن غزل میری
🦌 تو غزل کا غزال ہے، تاحال
🦌 تو غزل کا غزال ہے، تاحال
🌹 لالہ رویا، شکن شکن مویا
💭 تجھ کو پانا محال ہے، تاحال
💭 تجھ کو پانا محال ہے، تاحال
🩺 کتنے چارہ گروں نے زحمت کی
😔 پر وہی میرا حال ہے، تاحال
😔 پر وہی میرا حال ہے، تاحال
✍️ جونؔ ایلیا
💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥
💭 نہیں جذبے کسی بھی قیمت کے
🌙 ہم ہیں حیران اپنی حیرت کے
🌙 ہم ہیں حیران اپنی حیرت کے
🤔 اس میں آخر عجب کی بات ہے کیا
💔 تم نہیں تھے مری طبیعت کے
💔 تم نہیں تھے مری طبیعت کے
😔 پوچھ مت بے شکایتی کا عذاب
🌟 کیا عجب عیش تھے شکایت کے
🌟 کیا عجب عیش تھے شکایت کے
💧 یہ جو آنسو ہیں، رخصتی آنسو
🎁 یہ عطیے ہیں دل کی عادت کے
🎁 یہ عطیے ہیں دل کی عادت کے
📜 ہم ہی شیعوں کے مجتہد ہیں مغاں!
⚖️ ہم ہی مفتی ہیں اہلسنت کے
⚖️ ہم ہی مفتی ہیں اہلسنت کے
💉 ہم تو بس خون تھوکتے ہیں میاں
🛠️ نہیں خوگر کسی مشقت کے
🛠️ نہیں خوگر کسی مشقت کے
💕 یہ جو لمحے ہیں وصال کے ہیں میاں
🌙 ہیں یہ لمحے تمام ہجرت کے
🌙 ہیں یہ لمحے تمام ہجرت کے
✨ جونؔ، یزدان و آدم و ابلیس
📖 ہیں عجب معجزے حکایت کے
📖 ہیں عجب معجزے حکایت کے
✍️ جونؔ ایلیا
Tags
1st Year
First year
Model Test Questions XI Chemistry on Thermochemistry (Chapter # 11)
XI Model Test Questions Chemistry on Thermochemistry (Chapter # 11)