Model Test Questions Class 10 Chemistry Chapter-wise | Solutions & MCQs 2026

Model Test Questions Class 10 Chemistry Chapter-wise  | Solutions & MCQs 2026

Practice chapter-wise Model Test Questions for Class 10 Chemistry with solutions and MCQs. Covering all chapters for Karachi Board exams, this resource helps students revise and prepare effectively.

Welcome to Learn Chemistry by Inam Jazbi! This post provides chapter-wise Model Test Questions for Class 10 Chemistry, including solutions and MCQs.

All chapters are covered in detail, making it easy for students to practice, revise, and prepare for Karachi Board exams. These tests are perfect for strengthening concepts, solving numerical problems, and checking your understanding before exams.

 🧠 Related Posts:

https://learnchemistrybyinamjazbi.blogspot.com/2025/11/karachi-board-x-chemistry-paper-2025.html

https://learnchemistrybyinamjazbi.blogspot.com/2025/11/x-chemistry-karachi-board-national.html

https://learnchemistrybyinamjazbi.blogspot.com/2025/05/x-chemistry-notes-2025-new-concise-notes.html

https://learnchemistrybyinamjazbi.blogspot.com/2024/08/blog-post.html

https://learnchemistrybyinamjazbi.blogspot.com/2024/07/x-model-test-questions-chemistry-on.html

https://learnchemistrybyinamjazbi.blogspot.com/2024/07/x-chemical-equilibrium-notes-2024.html

🔥🌟X Chemistry Model Test Questions of All Chapters with Solution and MCQs 🔥🌟

Download here  

💥 جونؔ ایلیا 🎯 💥

💭 بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گے
💔 صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے
🎶 رقص ہے رنگ پر رنگ ہم رقص ہیں
🌌 سب بچھڑ جائیں گے سب بکھر جائیں گے
🍷 یہ خراباتیان خرد باختہ
🌅 صبح ہوتے ہی سب کام پر جائیں گے
💕 کتنی دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں
⚡ کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے
🌟 ہے غنیمت کہ اسرار ہستی سے ہم
🕊️ بے خبر آئے ہیں بے خبر جائیں گے

🔥 جونؔ ایلیا ۔ غزل 🔥

🌸 ہے بکھرنے کو یہ محفلِ رنگ و بُو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🕊️ ہر طرف ہو رہی ہے یہی گفتگو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
💭 کوئی حاصل نہ تھا آرزو کا مگر، سانحہ یہ ہے اب آرزو بھی نہیں
⏳ وقت کی اس مسافت میں بے آرزو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🔥 ایک جنوں تھا کہ آباد ہو شہرِ جاں، اور آباد جب شہرِ جاں ہو گیا
🌌 ہیں یہ سرگوشیاں دربدر کوبکو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🛤️ کس قدر دور سے لوٹ کر آئے ہیں، یوں کہوں عمر برباد کر آئے ہیں
💔 تھا سراب اپنا سرمایۂِ جستجو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🌿 دشت میں رقصِ شوقِ بہار اب کہاں، بعدِ پیمائ دیوانہ وار اب کہاں
🌙 بس گزرنے کو ہے موسمِ ہائے و ہُو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🎶 ہر متاعِ نفس نذرِ آہنگ کی، ہم کو یاراں ہَوس تھی بہت رنگ کی
🌹 گُل زمیں سے ابلنے کو ہے اب لہو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے؟
🌙 اولِ شب کا مہتاب بھی جا چکا، صحنِ مے خانہ سے اب افق میں کہیں
🍷 آخرِ شب ہے خالی ہیں جام و سُبو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے؟
🌸 دشت میں رقصِ شوقِ بہار اب کہاں، بادہ پیمائی دیوانہ دار اب کہاں
🔥 بس گزرنے کو ہے موسمِ ہاؤ و ہُو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے؟

💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥

🌸 کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے
💭 جانے کیسے لوگ وہ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے
🌙 شام ہوئے خوش باش یہاں کے میرے پاس آ جاتے ہیں
🔥 میرے بجھنے کا نظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے
🚶 وہ جو نہ آنے والا ہے نا اس سے مجھ کو مطلب تھا
💔 آنے والوں سے کیا مطلب آتے ہیں آتے ہوں گے
🍃 اس کی یاد کی باد صبا میں اور تو کیا ہوتا ہوگا
🌌 یوں ہی میرے بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے
🤝 یارو کچھ تو ذکر کرو تم اس کی قیامت بانہوں کا
💔 وہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں وہ تو مر جاتے ہوں گے
🕊️ میرا سانس اکھڑتے ہی سب بین کریں گے روئیں گے
🌙 یعنی میرے بعد بھی یعنی سانس لیے جاتے ہوں گے
✍️ جونؔ ایلیا

💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥

🌙 زندانیانِ شام و سحر خیریت سے ہیں
💭 ہر لمحہ جی رہے ہیں مگر خیریت سے ہیں
🏙️ شہرِ یقیں میں اب کوئی دم خم نہیں رہا
🌌 دشتِ گماں کے خاک بسر خیریت سے ہیں
🙏 آخر ہے کون جو کسی پل کہ سکے یہ بات
🕊️ اللہ اور تمام بشر خیریت سے ہیں
💡 ہے اپنے اپنے طور پہ ہر چیز اس گھڑی
💧 مژگانِ خشک و دامنِ تر خیریت سے ہیں
👀 اب فیصلوں کا کم نظروں پر مدار ہے
🌟 یعنی تمام اہلِ نظر خیریت سے ہیں
🦶 پیروں سے آبلوں کا وہی ہے معاملہ
🔥 سودائیانِ حال کے سر خیریت سے ہیں
🏚️ ہم جن گھروں کو چھوڑ کے آئے تھے ناگہاں
💭 شکوے کی بات ہے، وہ اگر خیریت سے ہیں
🌬️ لو چل رہی ہے، محو ہے اپنے میں دوپہر
🏚️ خاک اڑ رہی ہے اور کھنڈر خیریت سے ہیں
👥 ہم اہلِ شہر اپنے جوانوں کے درمیاں
✨ جونؔ! ایک معجزہ ہے اگر خیریت سے ہیں
🎨 برباد ہوچکا ہے ہنر اک ہنر کے ساتھ
📜 اور اپنے صاحبانِ ہنر خیریت سے ہیں
🕊️ شکرِ خدا شہید ہوئے اہلِ حق تمام
⚔️ برگستوان و تیغ و تبر خیریت سے ہیں
🏰 اب اس کا قصرِ ناز کہاں اور وہ کہاں
🚪 بس در ہے اور بندئہ در خیریت سے ہیں
✍️ ہم ہیں کہ شاعری ہے ہمارے لئے عذاب
📖 ورنہ تمام جوشؔ و جگرؔ خیریت سے ہیں
📚 شاعر تو دو ہیں میرؔ تقی اور میر جونؔ
🌙 باقی جو ہیں وہ شام و سحر خیریت سے ہیں
✍️ جونؔ ایلیا

💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥

🌅 ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے
☀️ دھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہے
🍃 رنگ موسم ہے اور بادِ صبا
🌆 شہر کوچوں میں خاک اڑاتی ہے
📄 فرش پر کاغذ اڑتے پھرتے ہیں
🕰️ میز پر گرد جمتی جاتی ہے
💭 سوچتا ہوں کہ اس کی یاد آخر
🌙 اب کسے رات بھر جگاتی ہے
🎶 میں بھی اذنِ نواگری چاہوں
💔 بے دلی بھی تو لب ہلاتی ہے
🌳 سوگئے پیڑ جاگ اٹھی خوشبو
🌸 زندگی خواب کیوں دکھاتی ہے
💔 اس سراپا وفا کی فرقت میں
💭 خواہشِ غیر کیوں ستاتی ہے
🤝 آپ اپنے سے ہم سخن رہنا
😮 ہمنشیں! سانس پھول جاتی ہے
😔 کیا ستم ہے کہ اب تِری صورت
👀 غور کرنے پہ یاد آتی ہے
🏚️ کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
💔 روز ایک چیز ٹوٹ جاتی ہے
✍️ جونؔ ایلیا

💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥

🌟 یہ ملکِ جاں یہ حقیقت نہ رائیگاں جائے
💭 یہ دل کے خواب کی صورت نہ رائیگاں جائے
🏙️ ہے شہر شہر کی محنت یہ منزلِ مقصود
🌌 یہ شہر شہر کی محنت نہ رائیگاں جائے
🤝 یہ رنگ رنگ کے رشتے بکھر نہ جائیں کہیں
💡 یہ خود سے اپنی رفاقت نہ رائیگاں جائے
🌸 سوائے حسنِ طبیعت دھرا بھی اب کیا ہے
🌙 کہیں یہ حسنِ طبیعت نہ رائیگاں جائے
🔊 ہے گوشہ گوشہ یہاں سازشوں کی سرگوشی
💔 ہمارا عہدِ محبت نہ رائیگاں جائے
👥 کہاں کہاں سے یہاں آکے ہم ہوئے ہیں بہم
✨ یہ اجتماع یہ صحبت نہ رائیگاں جائے
⏳ نہ بھولنا کہ یہ مہلت ہے آخری مہلت
🌟 رہے خیال یہ مہلت نہ رائیگاں جائے
💭 مجھے تو اے میرے دل تجھ سے ہے یہی کہنا
🔥 تیرے جنون کی حالت نہ رائیگاں جائے
✍️ جونؔ ایلیا

💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥

🌙 نشئہ ماہ و سال ہے، تاحال
💭 شوق اس کا کمال ہے، تاحال
🌸 نکہتِ گل ادھر نہ آئیو تو
😔 جی ہمارا نڈھال ہے، تاحال
💔 میرا سینہ چھلا ہوا ہے مگر
⚡ شوقِ بحث و جدال ہے، تاحال
🌀 اس عبث خانئہ حوادث میں
❓ ہر جواب اک سوال ہے، تاحال
⏳ بڑھ رہا ہوں زوال کی جانب
💔 دل میں زخمِ کمال ہے، تاحال
🏚️ کب کا تاراج ہوچکا ہوں مگر
🌟 ذہن میں اک مثال ہے، تاحال
💔 زخمِ کاری کے باوجود
🌿 ہوسِ اندمال ہے، تاحال
🧣 دامنِ آلودگی کے بعد بھی تو
🌸 آپ اپنی مثال ہے، تاحال
💭 ہے یہ صورت کہ اشتیاق اس کا
💔 بے امیدِ وصال ہے، تاحال
😔 تھا جو شکوہ سو ہے وہ تاایں دم
🌙 وہ جو تھا اک ملال ہے، تاحال
💔 زندگی ہے لہولہان مگر
🎨 رنگ بے خدوخال ہے، تاحال
📖 ہے سوادِ ختن غزل میری
🦌 تو غزل کا غزال ہے، تاحال
🌹 لالہ رویا، شکن شکن مویا
💭 تجھ کو پانا محال ہے، تاحال
🩺 کتنے چارہ گروں نے زحمت کی
😔 پر وہی میرا حال ہے، تاحال
✍️ جونؔ ایلیا

💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥

💭 نہیں جذبے کسی بھی قیمت کے
🌙 ہم ہیں حیران اپنی حیرت کے
🤔 اس میں آخر عجب کی بات ہے کیا
💔 تم نہیں تھے مری طبیعت کے
😔 پوچھ مت بے شکایتی کا عذاب
🌟 کیا عجب عیش تھے شکایت کے
💧 یہ جو آنسو ہیں، رخصتی آنسو
🎁 یہ عطیے ہیں دل کی عادت کے
📜 ہم ہی شیعوں کے مجتہد ہیں مغاں!
⚖️ ہم ہی مفتی ہیں اہلسنت کے
💉 ہم تو بس خون تھوکتے ہیں میاں
🛠️ نہیں خوگر کسی مشقت کے
💕 یہ جو لمحے ہیں وصال کے ہیں میاں
🌙 ہیں یہ لمحے تمام ہجرت کے
✨ جونؔ، یزدان و آدم و ابلیس
📖 ہیں عجب معجزے حکایت کے
✍️ جونؔ ایلیا

💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥

❤️ دل نے وفا کے نام پر کارِ وفا نہیں کیا
💔 خود کو ہلاک کر لیا، خود کو فدا نہیں کیا
🤔 کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے ہے واسطہ کوئی
😔 تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا
⚖️ تو بھی کسی کے باب میں عہد شکن ہو غالباً
📜 میں نے بھی ایک شخص کا قرض ادا نہیں کیا
🗣️ جو بھی ہو تم پہ معترض، اُس کو یہی جواب دو
🌟 آپ بہت شریف ہیں، آپ نے کیا نہیں کیا
👑 جس کو بھی شیخ و شاہ نے حکمِ خُدا دیا قرار
🙏 ہم نے نہیں کیا وہ کام، ہاں باخُدا نہیں کیا
📖 نسبتِ علم ہے بہت حاکمِ وقت کو عزیز
💡 اُس نے تو کارِ جہل بھی بے علما نہیں کیا
✍️ جونؔ ایلیا

💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥

📖 حال خوش تذکرہ نگاروں کا
🌙 تھا تو اک شہر خاکساروں کا
💔 پہلے رہتے تھے کوچۂ دل میں
😔 اب پتہ کیا ہے دل فگاروں کا
🚪 کوئے جاناں کی ناکہ بندی ہے
🛏️ بسترا اب کہاں ہے یاروں کا
🌬️ چلتا جاتا ہے سانس کا لشکر
🕊️ کون پُرساں ہے یادگاروں کا
💭 اپنے اندر گھسٹ رہا ہوں میں
🌌 مجھ سے کیا ذکر رہ گزاروں کا
🎉 ان سے جو شہر میں ہیں بے دعویٰ
🌟 عیش مت پوچھ دعویداروں کا
⚔️ کیسا یہ معرکہ ہے برپا جو
🐎 نہ پیادوں کا نہ سواروں کا
🖋️ بات تشبیہہ کی نہ کیجیو تُو
📚 دہر ہے صرف استعاروں کا
💔 میں تو خیر اپنی جان ہی سے گیا
🤝 کیا ہوا جانے جانثاروں کا
🔥 کچھ نہیں اب سوائے خاکستر
🌪️ ایک جلسہ تھا شعلہ خواروں کا
✍️ جونؔ ایلیا

💥 حضرتِ جونؔ ایلیا 💥 🎨 خاتم الشعرا و شاعرِ بے مثل و بے بدل 🎨

👥 اپنے سب یار کام کررہے ہیں
🌙 اور ہم ہیں کہ نام کر رہے ہیں
🏛️ آنے والی اپر کلاس کی ہے
✨ ہم جو یہ اہمتمام کررہے ہیں
⚔️ تیغ بازی کا شوق اپنی جگہ
🔥 آپ تو قتلِ عام کررہے ہیں
🎶 داد و تحسین کا یہ شور ہے کیوں
💭 ہم تو خود سے کلام کررہے ہیں
😔 ہے وہ بے چارگی کا حال کہ ہم
🤝 ہر کسی کو سلام کررہے ہیں
🕊️ ہم تو بس یاد کے ہیں لوگ میاں
💔 اپنا ہونا حرام کررہے ہیں
👑 اک قتالہ چاہئے ہم کو
📢 ہم یہ اعلانِ عام کررہے ہیں
🍷 کیا بھلا ساغرِ سفال کہ ہم
🥂 ناف پیالے کو جام کررہے ہیں
📝 ہم تو آئے تھے عرضِ مطلب کو
🙏 اور وہ احترام کررہے ہیں
💨 نہ اٹھے آہ کا دھواں بھی کہ وہ
🌌 کوئے دل میں خرام کررہے ہیں
💋 اس کے ہونٹوں پہ رکھ کے ہونٹ اپنے
🕊️ بات ہی ہم تمام کررہے ہیں
🎉 ہم عجب ہیں کہ اس کے کوچے میں
🥁 بے سبب دھوم دھام کررہے ہیں
⚔️ کرکے بے پوشش اس صنم کو ہم
🗡️ تیغ کو بے نیام کررہے ہیں
🎭 کوئی بھی فن ہمیں نہیں آتا
⏳ دم کو بس دوام کررہے ہیں
🌟 ہم جو ہر لمحہ جی رہے ہیں جونؔ
🏛️ ہم ابد میں قیام کررہے ہیں
✍️ حضرتِ جونؔ ایلیا

💥 حضرتِ جونؔ ایلیا 💥 🎨 خاتم الشعرا و شاعرِ بے مثل و بے بدل 🎨

🤝 نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
💔 بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم
🌙 خموشی سے ادا ہو رسمِ دوری
🔥 کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم
📖 سنا دیں عصمتِ مریم کا قصّہ؟
❌ پر اب اس باب کو وا کیوں کریں ہم
💭 زلیخاے عزیزاں بات یہ ہے
⚖️ بھلا گھاٹے کا سودا کیوں کریں ہم
💕 ہماری ہی تمنّا کیوں کرو تم
🌟 تمہاری ہی تمنّا کیوں کریں ہم
🕰️ کیا تھا عہد جب لمحوں میں ہم نے
📜 تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم
🗑️ اٹھا کر کیوں نہ پھینکیں ساری چیزیں
🚶 فقط کمروں میں ٹہلا کیوں کریں ہم
👥 جو اک نسل فرومایہ کو پہنچے
💡 وہ سرمایہ اکٹھا کیوں کریں ہم
🌍 نہیں دنیا کو جب پروا ہماری
😔 تو پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم
🏙️ برہنہ ہیں سرِ بازار تو کیا
👀 بھلا اندھوں سے پردہ کیوں کریں ہم
🏠 ہیں باشندے اسی بستی کے ہم بھی
🤝 سو خود پر بھی بھروسا کیوں کریں ہم
💀 چبالیں کیوں نہ خود ہی اپنا ڈھانچا
🍽️ تمہیں راتب مہیا کیوں کریں ہم
⚰️ پڑی رہنے دو انسانوں کی لاشیں
🌪️ زمیں کا بوجھ ہلکا کیوں کریں ہم
🕌 یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی
🕊️ یہاں کارِ مسیحا کیوں کریں ہم
✍️ حضرتِ جونؔ ایلیا

Post a Comment

Previous Post Next Post