Practice chapter-wise Model Test Questions for Class 10 Chemistry with solutions and MCQs. Covering all chapters for Karachi Board exams, this resource helps students revise and prepare effectively.
Welcome to Learn Chemistry by Inam Jazbi! This post provides chapter-wise Model Test Questions for Class 10 Chemistry, including solutions and MCQs.
All chapters are covered in detail, making it easy for students to practice, revise, and prepare for Karachi Board exams. These tests are perfect for strengthening concepts, solving numerical problems, and checking your understanding before exams.
🧠 Related Posts:
https://learnchemistrybyinamjazbi.blogspot.com/2025/11/karachi-board-x-chemistry-paper-2025.html
https://learnchemistrybyinamjazbi.blogspot.com/2025/11/x-chemistry-karachi-board-national.html
https://learnchemistrybyinamjazbi.blogspot.com/2025/05/x-chemistry-notes-2025-new-concise-notes.html
https://learnchemistrybyinamjazbi.blogspot.com/2024/08/blog-post.html
https://learnchemistrybyinamjazbi.blogspot.com/2024/07/x-model-test-questions-chemistry-on.html
https://learnchemistrybyinamjazbi.blogspot.com/2024/07/x-chemical-equilibrium-notes-2024.html
🔥🌟X Chemistry Model Test Questions of All Chapters with Solution and MCQs 🔥🌟
Download here
💥 جونؔ ایلیا 🎯 💥
💔 صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے
🌌 سب بچھڑ جائیں گے سب بکھر جائیں گے
🌅 صبح ہوتے ہی سب کام پر جائیں گے
⚡ کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے
🕊️ بے خبر آئے ہیں بے خبر جائیں گے
🔥 جونؔ ایلیا ۔ غزل 🔥
🕊️ ہر طرف ہو رہی ہے یہی گفتگو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
⏳ وقت کی اس مسافت میں بے آرزو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🌌 ہیں یہ سرگوشیاں دربدر کوبکو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
💔 تھا سراب اپنا سرمایۂِ جستجو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🌙 بس گزرنے کو ہے موسمِ ہائے و ہُو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
🌹 گُل زمیں سے ابلنے کو ہے اب لہو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے؟
🍷 آخرِ شب ہے خالی ہیں جام و سُبو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے؟
🔥 بس گزرنے کو ہے موسمِ ہاؤ و ہُو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے؟
💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥
💭 جانے کیسے لوگ وہ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے
🔥 میرے بجھنے کا نظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے
💔 آنے والوں سے کیا مطلب آتے ہیں آتے ہوں گے
🌌 یوں ہی میرے بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے
💔 وہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں وہ تو مر جاتے ہوں گے
🌙 یعنی میرے بعد بھی یعنی سانس لیے جاتے ہوں گے
💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥
💭 ہر لمحہ جی رہے ہیں مگر خیریت سے ہیں
🌌 دشتِ گماں کے خاک بسر خیریت سے ہیں
🕊️ اللہ اور تمام بشر خیریت سے ہیں
💧 مژگانِ خشک و دامنِ تر خیریت سے ہیں
🌟 یعنی تمام اہلِ نظر خیریت سے ہیں
🔥 سودائیانِ حال کے سر خیریت سے ہیں
💭 شکوے کی بات ہے، وہ اگر خیریت سے ہیں
🏚️ خاک اڑ رہی ہے اور کھنڈر خیریت سے ہیں
✨ جونؔ! ایک معجزہ ہے اگر خیریت سے ہیں
📜 اور اپنے صاحبانِ ہنر خیریت سے ہیں
⚔️ برگستوان و تیغ و تبر خیریت سے ہیں
🚪 بس در ہے اور بندئہ در خیریت سے ہیں
📖 ورنہ تمام جوشؔ و جگرؔ خیریت سے ہیں
🌙 باقی جو ہیں وہ شام و سحر خیریت سے ہیں
💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥
☀️ دھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہے
🌆 شہر کوچوں میں خاک اڑاتی ہے
🕰️ میز پر گرد جمتی جاتی ہے
🌙 اب کسے رات بھر جگاتی ہے
💔 بے دلی بھی تو لب ہلاتی ہے
🌸 زندگی خواب کیوں دکھاتی ہے
💭 خواہشِ غیر کیوں ستاتی ہے
😮 ہمنشیں! سانس پھول جاتی ہے
👀 غور کرنے پہ یاد آتی ہے
💔 روز ایک چیز ٹوٹ جاتی ہے
💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥
💭 یہ دل کے خواب کی صورت نہ رائیگاں جائے
🌌 یہ شہر شہر کی محنت نہ رائیگاں جائے
💡 یہ خود سے اپنی رفاقت نہ رائیگاں جائے
🌙 کہیں یہ حسنِ طبیعت نہ رائیگاں جائے
💔 ہمارا عہدِ محبت نہ رائیگاں جائے
✨ یہ اجتماع یہ صحبت نہ رائیگاں جائے
🌟 رہے خیال یہ مہلت نہ رائیگاں جائے
🔥 تیرے جنون کی حالت نہ رائیگاں جائے
💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥
💭 شوق اس کا کمال ہے، تاحال
😔 جی ہمارا نڈھال ہے، تاحال
⚡ شوقِ بحث و جدال ہے، تاحال
❓ ہر جواب اک سوال ہے، تاحال
💔 دل میں زخمِ کمال ہے، تاحال
🌟 ذہن میں اک مثال ہے، تاحال
🌿 ہوسِ اندمال ہے، تاحال
🌸 آپ اپنی مثال ہے، تاحال
💔 بے امیدِ وصال ہے، تاحال
🌙 وہ جو تھا اک ملال ہے، تاحال
🎨 رنگ بے خدوخال ہے، تاحال
🦌 تو غزل کا غزال ہے، تاحال
💭 تجھ کو پانا محال ہے، تاحال
😔 پر وہی میرا حال ہے، تاحال
💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥
🌙 ہم ہیں حیران اپنی حیرت کے
💔 تم نہیں تھے مری طبیعت کے
🌟 کیا عجب عیش تھے شکایت کے
🎁 یہ عطیے ہیں دل کی عادت کے
⚖️ ہم ہی مفتی ہیں اہلسنت کے
🛠️ نہیں خوگر کسی مشقت کے
🌙 ہیں یہ لمحے تمام ہجرت کے
📖 ہیں عجب معجزے حکایت کے
💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥
💔 خود کو ہلاک کر لیا، خود کو فدا نہیں کیا
😔 تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا
📜 میں نے بھی ایک شخص کا قرض ادا نہیں کیا
🌟 آپ بہت شریف ہیں، آپ نے کیا نہیں کیا
🙏 ہم نے نہیں کیا وہ کام، ہاں باخُدا نہیں کیا
💡 اُس نے تو کارِ جہل بھی بے علما نہیں کیا
💥 غزل ۔۔۔۔ جونؔ ایلیا 💥
🌙 تھا تو اک شہر خاکساروں کا
😔 اب پتہ کیا ہے دل فگاروں کا
🛏️ بسترا اب کہاں ہے یاروں کا
🕊️ کون پُرساں ہے یادگاروں کا
🌌 مجھ سے کیا ذکر رہ گزاروں کا
🌟 عیش مت پوچھ دعویداروں کا
🐎 نہ پیادوں کا نہ سواروں کا
📚 دہر ہے صرف استعاروں کا
🤝 کیا ہوا جانے جانثاروں کا
🌪️ ایک جلسہ تھا شعلہ خواروں کا
💥 حضرتِ جونؔ ایلیا 💥 🎨 خاتم الشعرا و شاعرِ بے مثل و بے بدل 🎨
🌙 اور ہم ہیں کہ نام کر رہے ہیں
✨ ہم جو یہ اہمتمام کررہے ہیں
🔥 آپ تو قتلِ عام کررہے ہیں
💭 ہم تو خود سے کلام کررہے ہیں
🤝 ہر کسی کو سلام کررہے ہیں
💔 اپنا ہونا حرام کررہے ہیں
📢 ہم یہ اعلانِ عام کررہے ہیں
🥂 ناف پیالے کو جام کررہے ہیں
🙏 اور وہ احترام کررہے ہیں
🌌 کوئے دل میں خرام کررہے ہیں
🕊️ بات ہی ہم تمام کررہے ہیں
🥁 بے سبب دھوم دھام کررہے ہیں
🗡️ تیغ کو بے نیام کررہے ہیں
⏳ دم کو بس دوام کررہے ہیں
🏛️ ہم ابد میں قیام کررہے ہیں
💥 حضرتِ جونؔ ایلیا 💥 🎨 خاتم الشعرا و شاعرِ بے مثل و بے بدل 🎨
💔 بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم
🔥 کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم
❌ پر اب اس باب کو وا کیوں کریں ہم
⚖️ بھلا گھاٹے کا سودا کیوں کریں ہم
🌟 تمہاری ہی تمنّا کیوں کریں ہم
📜 تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم
🚶 فقط کمروں میں ٹہلا کیوں کریں ہم
💡 وہ سرمایہ اکٹھا کیوں کریں ہم
😔 تو پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم
👀 بھلا اندھوں سے پردہ کیوں کریں ہم
🤝 سو خود پر بھی بھروسا کیوں کریں ہم
🍽️ تمہیں راتب مہیا کیوں کریں ہم
🌪️ زمیں کا بوجھ ہلکا کیوں کریں ہم
🕊️ یہاں کارِ مسیحا کیوں کریں ہم